Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Luqman 31:17

31:17
يا بني اقم الصلاة وامر بالمعروف وانه عن المنكر واصبر على ما اصابك ان ذالك من عزم الامور ١٧
يَـٰبُنَىَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأْمُرْ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱنْهَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ ١٧
يَٰبُنَيَّ
أَقِمِ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَأۡمُرۡ
بِٱلۡمَعۡرُوفِ
وَٱنۡهَ
عَنِ
ٱلۡمُنكَرِ
وَٱصۡبِرۡ
عَلَىٰ
مَآ
أَصَابَكَۖ
إِنَّ
ذَٰلِكَ
مِنۡ
عَزۡمِ
ٱلۡأُمُورِ
١٧
"Wahai anak kesayanganku, dirikanlah sembahyang, dan suruhlah berbuat kebaikan, serta laranglah daripada melakukan perbuatan yang mungkar, dan bersabarlah atas segala bala bencana yang menimpamu. Sesungguhnya yang demikian itu adalah dari perkara-perkara yang dikehendaki diambil berat melakukannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

یبنی اقم الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔ من عزم الامور (17) یہ اسلامی نظریہ حیات کا راستہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھنا ، یہ شعور پیدا کرنا کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اس بات کا متمنی ہونا کہ اصل اجز اس کے پاس ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا کہ وہ عدل کرے گا اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرنا اور اس کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ، ان کی اصلاح کرنا اور ان کو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا اور ان تمام امور سے قبل اپنے آپ کو کفر کے ساتھ معرکہ آرائی کے لیے تیار کرنا اور اس راہ میں مادی تیاری سے زیادہ اہم تیاری اخلاقی تیاری ہے۔ اور وہ اقامت صلوٰۃ اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر صبر ، کیونکہ لوگ دعوت کے مقابلے میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ دعوت کے ساتھ عناد رکھتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں۔ اذیت میں لسانی اذیت اور دست درازی کی دونوں اذیتیں شامل ہیں۔ مال کی آزمائش اور جان کی آزمائش۔

ان ذلک من عزم الامور (31: 17) ” یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے “۔ عزم الامور کا مفہوم ہے راستے میں تردد ہونے کے بعد جب کوئی کسی طرف عزم کرلیتا ہے اور پھر راستہ طے کرتا ہے۔ اب حضرت لقمان اپنی نصیحت کو نطریات و عبادات کے بعد اخلاقیات کی حدود میں داخل کرتے ہیں۔ جو کسی بھی داعی کا بہترین زادراہ ہے کیونکہ دعوت الی اللہ دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان دوسروں کو حقیر سمجھے اور اپنے آپ کو برتر سمجھے اور پھر دعوت دیتے وقت اگر امیر بن جائے تو وہ لوگوں پر اپنی قیادت مسلط کرے اور اگر ایک آدمی دعوت الی الخیر کا کام بھی نہیں کرتا اور پھر بھی وہ بڑا بنتا ہے اور لوگوں سے اونچا رہتا ہے تو یہ بہت ہی زیادہ قبیح حرکت ہے۔