Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Tuur 52:45

52:45
فذرهم حتى يلاقوا يومهم الذي فيه يصعقون ٤٥
فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ ٤٥
فَذَرۡهُمۡ
حَتَّىٰ
يُلَٰقُواْ
يَوۡمَهُمُ
ٱلَّذِي
فِيهِ
يُصۡعَقُونَ
٤٥
(Kalau keingkaran dan kedegilan mereka sampai begitu sekali) maka biarkanlah mereka (wahai Muhammad, dan janganlah dihiraukan) sehingga mereka menemui hari yang padanya mereka akan binasa -
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 52:45 hingga 52:47

یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔

اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔