Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Tahriim 66:12

66:12
ومريم ابنت عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القانتين ١٢
وَمَرْيَمَ ٱبْنَتَ عِمْرَٰنَ ٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَـٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتْ مِنَ ٱلْقَـٰنِتِينَ ١٢
وَمَرۡيَمَ
ٱبۡنَتَ
عِمۡرَٰنَ
ٱلَّتِيٓ
أَحۡصَنَتۡ
فَرۡجَهَا
فَنَفَخۡنَا
فِيهِ
مِن
رُّوحِنَا
وَصَدَّقَتۡ
بِكَلِمَٰتِ
رَبِّهَا
وَكُتُبِهِۦ
وَكَانَتۡ
مِنَ
ٱلۡقَٰنِتِينَ
١٢
Dan juga (satu misal perbandingan lagi, iaitu): Maryam binti Imran (ibu Nabi Isa seorang perempuan) yang telah memelihara kehormatan dan kesuciannya (dari disentuh oleh lelaki; tetapi oleh sebab Kami telah takdirkan dia mendapat anak) maka Kami perintahkan Jibril meniup masuk ke dalam kandungan tubuhnya dari roh (ciptaan) Kami; dan (sekalipun Maryam itu hidup di antara kaum kafir) ia mengakui kebenaran Kalimah-kalimah Tuhannya serta Kitab-kitabNya; dan ia menjadi dari orang-orang yang tetap taat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 12{ وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا } ”اور عمران کی بیٹی مریم علیہ السلام جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی“ یہ تیسری مثال ایسی خاتون کی ہے جو خود بھی نیک تھیں اور ان کی تربیت بھی انتہائی پاکیزہ ماحول میں ہوئی : { وَکَفَّلَھَا زَکَرِیَّا } آل عمران : 37۔ یعنی انہوں نے اللہ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت زکریا علیہ السلام کی آغوش محبت میں پرورش پائی اور یوں ان کی سیرت نورٌ علیٰ نور کی مثال بن گئی۔ { فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا } ”تو ہم نے اس میں اپنی روح میں سے پھونکا“ { وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَکُتُبِہٖ } ”اور اس نے تصدیق کی اپنے رب کی تمام باتوں کی اور اس کی کتابوں کی“ حضرت مریم سلامٌ علیہا کو وحی کے ذریعے فرشتے جو کچھ بتاتے رہے انہوں نے وہ سب باتیں دل و جان سے تسلیم کیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے تمہیں دنیا بھر کی عورتوں میں سے ُ چن لیا ہے اور یہ کہ اللہ کے حکم سے تمہارے ہاں بیٹا ہوگا۔ اسی طرح حضرت مریم نے زبور ‘ تورات اور عہد نامہ قدیم سمیت تمام الہامی کتب اور صحائف کی تصدیق بھی کی۔ { وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۔ } ”اور وہ بہت ہی فرمانبرداروں میں سے تھیں۔“ ان تین مثالوں کے ذریعے خواتین کے حوالے سے تین ممکنہ صورتیں بیان کی گئی ہیں ‘ یعنی بہترین شوہر کے ہاں بدترین بیوی ‘ بدترین شوہر کے ہاں بہترین بیوی ‘ اور بہترین ماحول میں بہترین خاتون۔ چوتھی ممکنہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ شوہر بھی بدطینت ہو اور اس کی بیوی بھی بدطینت ہو۔ یعنی میاں بیوی دونوں کا ظاہر و باطن { ظُلُمٰتٌم بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍط } النور : 40 کا نقشہ پیش کرتا ہو اور فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے کہ ان دونوں میں کون زیادہ بدطینت اور بدسرشت ہے۔ اس ممکنہ صورت کی مثال سورة اللہب میں ابولہب اور اس کی بیوی اُمّ جمیل کی بیان ہوئی ہے۔