Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syura 42:42

42:42
انما السبيل على الذين يظلمون الناس ويبغون في الارض بغير الحق اولايك لهم عذاب اليم ٤٢
إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظْلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٤٢
إِنَّمَا
ٱلسَّبِيلُ
عَلَى
ٱلَّذِينَ
يَظۡلِمُونَ
ٱلنَّاسَ
وَيَبۡغُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
بِغَيۡرِ
ٱلۡحَقِّۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
٤٢
Sesungguhnya jalan (untuk menyalahkan) hanyalah terhadap orang-orang yang melakukan kezaliman kepada manusia dan bermaharajalela di muka bumi dengan tiada sebarang alasan yang benar. Mereka itulah orang-orang yang beroleh azab seksa yang tidak berperi sakitnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 42 { اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ } ”اصل میں الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں“ { وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”اور زمین کے اندر سرکشی کرتے ہیں بغیر کسی حق کے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ عدل و انصاف کی راہ میں اصل رکاوٹ تو وہ لوگ ہیں جو زمین میں سرکشی دکھاتے ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے خود حاکم بن بیٹھتے ہیں اور عوام الناس کے حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کی اہمیت کا اندازہ ان تاکیدی احکام سے لگایا جاسکتا ہے جو پورے قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورة آل عمران کی آیت 18 میں اللہ تعالیٰ کی شان { قَآئِمًام بِالْقِسْطِط } کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کرنے والا ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 میں فرمایا : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ } ”اے اہل ِایمان کھڑے ہو جائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر“۔ اور پھر سورة المائدۃ کی آیت 8 میں یہی الفاظ اس ترتیب میں دہرائے گئے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِز } ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جائو“۔ پھر زیرمطالعہ سورت کی آیت 15 میں حضور ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ انہیں بتا دیجیے : { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْط } کہ مجھے تمہارے درمیان عدل قائم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔