Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nisaa' 4:132

4:132
ولله ما في السماوات وما في الارض وكفى بالله وكيلا ١٣٢
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا ١٣٢
وَلِلَّهِ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَمَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِۚ
وَكَفَىٰ
بِٱللَّهِ
وَكِيلًا
١٣٢
Dan bagi Allah jualah apa yang ada di langit dan yang ada di bumi; dan cukuplah Allah sebagai Pengawal (yang mentadbirkan dan menguasai segala-galanya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 4:131 hingga 4:134

دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔

موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔