Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 81

27:81
وما انت بهادي العمي عن ضلالتهم ان تسمع الا من يومن باياتنا فهم مسلمون ٨١
وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ٨١
وَمَآﱥ
أَنتَﱦ
بِهَٰدِيﱧ
ٱلۡعُمۡيِﱨ
عَنﱩ
ضَلَٰلَتِهِمۡۖﱪﱫ
إِنﱬ
تُسۡمِعُﱭ
إِلَّاﱮ
مَنﱯ
يُؤۡمِنُﱰ
بِـَٔايَٰتِنَاﱱ
فَهُمﱲ
مُّسۡلِمُونَﱳ
٨١ﱴ
Dan engkau tidak akan dapat memberi petunjuk kepada orang-orang yang buta supaya menjauhi kesesatan mereka; engkau tidak dapat memperdengarkan (seruanmu itu) melainkan kepada orang-orang yang sanggup beriman akan ayat-ayat keterangan Kami, kerana mereka orang-orang yang berserah diri dengan ikhlas.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 27:76 hingga 27:81

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آنکھ، کان اور دماغ کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اگر کھلے طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ بے خطا طورپر حقیقتوں کو دیکھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مصنوعی تصور سے مغلوب کرلے تو اس کی ادراک کی صلاحیتیں معطل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے سامنے حقیقت بے نقاب صورت میں آتی ہے مگر وہ اس سے اس طرح بے خبر رہتا ہے جیسے کہ وہ اندھا بہرا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسی شخص کو راستہ دکھایا جاسکتا ہے جو راستہ دیکھنا چاہے۔ جس کے اندر خود راستہ کی تڑپ نہ ہو اس کے ليے کسی رہنما کی رہنمائی کام آنے والی نہیں۔

حق پرست بننے کے ليے سب سے زیادہ جو چیز درکار ہے وہ اعتراف ہے۔ اس دنیا میں اسی شخص کو ہدایت ملتی ہے جس کے اندر یہ مادہ ہو کہ جو بات دلائل سے واضح ہو جائے وہ فوراً اس کو مان لے اور اپنی زندگی کو اس کی ماتحتی میں دے دے۔

جو لوگ خدا کی دعوت کے آگے نہ جھکیں۔ انھیں آخر کار خدا کے فیصلے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔