Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:66

27:66
بل ادارك علمهم في الاخرة بل هم في شك منها بل هم منها عمون ٦٦
بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ٦٦
بَلِ
ٱدَّٰرَكَ
عِلۡمُهُمۡ
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِۚ
بَلۡ
هُمۡ
فِي
شَكّٖ
مِّنۡهَاۖ
بَلۡ
هُم
مِّنۡهَا
عَمُونَ
٦٦
Bahkan mereka (yang kafir) telah berkali-kali mengetahui tentang hari akhirat (tetapi mereka tidak meyakininya), bahkan mereka berada dalam syak mengenainya; bahkan matahati mereka buta langsung daripada memikirkannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 27:65 hingga 27:66

اسی طرح ایک قوم کا ہٹنا اور دوسری قوم کا اس کی جگہ لینا، سمندری جہاز اور موجودہ زمانہ میں ہوائی جہاز کا امکانات فطرت سے فائدہ اٹھا کر اندھیرے اور اجالے میں سفر کرنا ،سمندر سے بھاپ کا اٹھنا اور پھر بارش بن کر برسنا، چیزوں کو عدم سے وجود میں لانا اور پھر ان کو دوبارہ پیدا کرنا۔ انسان کے لیے وسیع پیمانہ پر ہرقسم کے رزق کا بندوبست کرنا ، یہ سب خدائی سطح کے کام ہیں ۔ اور ایک برتر خدا ہی ان کو انجام دے سکتا ہے ۔ یہی زمین پر ظاہر ہونے والے تمام واقعات کا حال ہے ۔ یہاں ایک واحد واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی اتنے بے شمار عوامل درکار ہوتے ہیں کہ اس کو وہی ہستی ظہور میں لاسکتی ۔ جس کے قبضہ میں ساری کائنات ہو۔ پھر یہ کس قدر بے عقلی کی بات ہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور کو اپنے جذبات عبودیت کا مرکز بناۓ ۔وہ ایک خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کرے۔