Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:66

27:66
بل ادارك علمهم في الاخرة بل هم في شك منها بل هم منها عمون ٦٦
بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ٦٦
بَلِﱧ
ٱدَّٰرَكَﱨ
عِلۡمُهُمۡﱩ
فِيﱪ
ٱلۡأٓخِرَةِۚﱫﱬ
بَلۡﱭ
هُمۡﱮ
فِيﱯ
شَكّٖﱰ
مِّنۡهَاۖﱱﱲ
بَلۡﱳ
هُمﱴ
مِّنۡهَاﱵ
عَمُونَﱶ
٦٦ﱷ
Bahkan mereka (yang kafir) telah berkali-kali mengetahui tentang hari akhirat (tetapi mereka tidak meyakininya), bahkan mereka berada dalam syak mengenainya; bahkan matahati mereka buta langsung daripada memikirkannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 27:66 hingga 27:69

آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔