Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:35

27:35
واني مرسلة اليهم بهدية فناظرة بم يرجع المرسلون ٣٥
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍۢ فَنَاظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ ٣٥
وَإِنِّي
مُرۡسِلَةٌ
إِلَيۡهِم
بِهَدِيَّةٖ
فَنَاظِرَةُۢ
بِمَ
يَرۡجِعُ
ٱلۡمُرۡسَلُونَ
٣٥
"Dan bahawa aku hendak menghantarkan hadiah kepada mereka, kemudian aku akan menunggu, apakah balasan yang akan dibawa balik oleh utusan-utusan kita"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 27:27 hingga 27:35

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔