Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mulk 67:28

67:28
قل ارايتم ان اهلكني الله ومن معي او رحمنا فمن يجير الكافرين من عذاب اليم ٢٨
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِىَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِىَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلْكَـٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٢٨
قُلۡ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِنۡ
أَهۡلَكَنِيَ
ٱللَّهُ
وَمَن
مَّعِيَ
أَوۡ
رَحِمَنَا
فَمَن
يُجِيرُ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
مِنۡ
عَذَابٍ
أَلِيمٖ
٢٨
Tanyalah (wahai Muhammad, kepada mereka): "Bagaimana fikiran kamu, jika Allah binasakan daku dan orang-orang yang bersama-sama denganku (sebagaimana yang kamu harap-harapkan), atau Ia memberi rahmat kepada kami (sehingga kami dapat mengalahkan kamu), - maka siapakah yang dapat melindungi orang-orang yang kafir dari azab seksa yang tidak terperi sakitnya?".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 67:28 hingga 67:30
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو “۔

پھر فرمایا ” ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے “، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-ھود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ” اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ “ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (‏حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔

صفحہ نمبر9658