Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
70:13
وفصيلته التي توويه ١٣
وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ ١٣
وَفَصِيلَتِهِ
ٱلَّتِي
تُـٔۡوِيهِ
١٣
Dan kaum kerabatnya yang melindunginya,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 70:11 hingga 70:14

آیات 1 1 تا 14{ یُّــبَصَّرُوْنَہُمْ ط } ”وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔“ وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہر شخص کو اس کے دوست احباب ‘ والدین ‘ بیوی بچے غرض اس کے سب پیارے دکھا بھی دیے جائیں گے تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ { یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَـوْ یَـفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ - وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـئْوِیْہِ - وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ } ”اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘ اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا ‘ اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ‘ پھر یہ فدیہ اس کو بچا لے !“ یہ اس کیفیت کی ایک جھلک ہے جس کے بارے میں ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس روز نفسانفسی کا عالم ہوگا۔ ہر شخص کو اپنی فکر ہوگی اور وہ چاہے گا کہ خواہ اس کے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سمیت سب کو عذاب میں جھونک دیا جائے لیکن اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کیفیت کا بالکل ایسا ہی نقشہ سورة عبس کی ان آیات میں بھی دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ رض وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ - لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔ } ”اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر انسان کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بیخبر کر دے گی“۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر - بھی نَفْسِیْ نَفْسِیْ پکار رہے ہوں گے۔