Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Kahfi 18:78

18:78
قال هاذا فراق بيني وبينك سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا ٧٨
قَالَ هَـٰذَا فِرَاقُ بَيْنِى وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ٧٨
قَالَ
هَٰذَا
فِرَاقُ
بَيۡنِي
وَبَيۡنِكَۚ
سَأُنَبِّئُكَ
بِتَأۡوِيلِ
مَا
لَمۡ
تَسۡتَطِع
عَّلَيۡهِ
صَبۡرًا
٧٨
Ia menjawab: "Inilah masanya perpisahan antaraku denganmu, aku akan terangkan kepadamu maksud (kejadian-kejadian yang dimusykilkan) yang engkau tidak dapat bersabar mengenainya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 18:77 hingga 18:78
ایک اور انوکھی بات ٭٭

دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے۔ مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ [صحیح مسلم:2380] ‏ انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی یہ کمر کس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کر دیا اور بالکل درست کر دیا۔ پہلے حدیث بیان ہو چکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ خم ٹھیک ہو گیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ علیہ السلام بول اٹھے کہ سبحان اللہ ان لوگوں نے تو ہمیں کھانے تک کو نہ پوچھا بلکہ مانگنے پر بھاگ گئے۔ اب جو تم نے ان کی یہ مزدوری کر دی، اس پر کچھ اجرت کیوں نہ لے لی جو بالکل ہمارا حق تھا؟ اس وقت وہ بندہ الٰہی بول اٹھے! لو صاحب اب مجھ میں اور آپ میں حسب معاہدہ خود جدائی ہو گئی۔ کیونکہ بچے کے قتل پر آپ نے سوال کیا تھا اس وقت جب میں نے آپ کو اس غلطی پر متنبہ کیا تھا تو آپ نے خود ہی کہا تھا کہ اب اگر کسی بات کو پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ سے الگ کر دینا۔ اب سنو! جن باتوں پر آپ نے تعجب سے سوال کیا اور برداشت نہ کر سکے، ان کی اصلی حکمت آپ پر ظاہر کئے دیتا ہوں۔

صفحہ نمبر4961