Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:108

17:108
ويقولون سبحان ربنا ان كان وعد ربنا لمفعولا ١٠٨
وَيَقُولُونَ سُبْحَـٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا ١٠٨
وَيَقُولُونَ
سُبۡحَٰنَ
رَبِّنَآ
إِن
كَانَ
وَعۡدُ
رَبِّنَا
لَمَفۡعُولٗا
١٠٨
Serta mereka menegaskan (dalam sujudnya): "Maha Suci Tuhan kami! Sesungguhnya janji Tuhan kami tetap terlaksana. "
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:107 hingga 17:109
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭

فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔

آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔

صفحہ نمبر4830