Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hujuraat 49:8

49:8
فضلا من الله ونعمة والله عليم حكيم ٨
فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَنِعْمَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٨
فَضۡلٗا
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَنِعۡمَةٗۚ
وَٱللَّهُ
عَلِيمٌ
حَكِيمٞ
٨
(Mereka dijadikan berkeadaan demikian) sebagai limpah kurnia dan nikmat pemberian dari Allah; dan (ingatlah), Allah Maha Mengetahui, lagi Maha Bijaksana.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 49:6 hingga 49:8

کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔

جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔