Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hajj 22:6

22:6
ذالك بان الله هو الحق وانه يحيي الموتى وانه على كل شيء قدير ٦
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّهُۥ يُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَأَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٦
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
ٱلۡحَقُّ
وَأَنَّهُۥ
يُحۡيِ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
وَأَنَّهُۥ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
٦
(Kedua-dua kenyataan) yang tersebut membuktikan bahawa sesungguhnya Allah jualah Tuhan Yang Sebenar-benarnya (yang berhak disembah), dan sesungguhnya Dia lah yang menghidupkan makhluk-makhluk yang mati, dan Dia lah jua Yang Maha Kuasa atas tiap-tiap sesuatu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 22:5 hingga 22:7

آخرت کی زندگی کے بارے میں آدمی کو اس ليے شبہ ہوتا ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جب انسان مرچکا ہوگا تو وہ کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے گا۔ مردہ کائنات دوبارہ زندہ کائنات کیسے بن جائے گی۔

اس شبہ کا جواب خود ہماری موجودہ دنیا کی ساخت میں موجودہے۔ موجوده دنیا کیا ہے۔ یہ ایک حالت کا دوسری حالت میں تبدیل ہوجانا ہے۔ وہ چیز جس کو ہم زندہ وجود کہتے ہیں وہ حقیقۃً غیرزندہ وجود کا تغیر ہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ لوہا، کاربن، کیلشیم، نمکیات، پانی اور گیسوں وغیرہ سے مل کر بنا ہے۔ انسانی وجود کے یہ مرکبات سب کے سب بے جان ہیں۔ مگر یہی غیر ذی روح مادے تبدیل ہو کر ذی روح اشیاء کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اور انسان کی صورت میں چلنے لگتے ہیں۔ پھر جو انسان ایک بار غیر زندہ سے زندہ صورت اختیار کرلیتا ہے وہ اگر دوبارہ غیر زندہ سے زندہ ہیئت میں تبدیل ہوجائے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔

اسی طرح زمین کے سبزہ کو دیکھيے۔ مٹی یا دوسری جن چیزوں سے ترکیب پاکرسبزہ بنتا ہے وہ سب کی سب ابتداء ً ان خصوصیات سے خالی ہوتی ہیں جن کے مجموعہ کا نام سبزہ ہے۔ مگر یہی غیر سبزہ تبدیل ہو کر سبزہ بن جاتا ہے۔ تبدیلی کا یہ واقعہ روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہاہے۔ پھر اسی ہونے والے واقعے کا دوسری بار ہونا مستبعد کیوں ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ پہلی دنیا کا وجود میں آنا خود ہی دوسری دنیا کے وجود میں آنے کا ثبوت ہے۔ ایک دنیا کا تجربہ کرنے کے بعد دوسری دنیا کو سمجھنا عقلی اور منطقی طورپر کچھ بھی مشکل نہیں۔