Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
25:21
۞ وقال الذين لا يرجون لقاءنا لولا انزل علينا الملايكة او نرى ربنا لقد استكبروا في انفسهم وعتوا عتوا كبيرا ٢١
۞ وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا ۗ لَقَدِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّۭا كَبِيرًۭا ٢١
۞ وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَرۡجُونَ
لِقَآءَنَا
لَوۡلَآ
أُنزِلَ
عَلَيۡنَا
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
أَوۡ
نَرَىٰ
رَبَّنَاۗ
لَقَدِ
ٱسۡتَكۡبَرُواْ
فِيٓ
أَنفُسِهِمۡ
وَعَتَوۡ
عُتُوّٗا
كَبِيرٗا
٢١
Dan berkatalah pula orang-orang yang tidak percaya akan menemui Kami: "Mengapa tidak diturunkan malaikat kepada kita, atau kita dapat melihat Tuhan kita?" Demi sesungguhnya, mereka telah bersikap sombong angkuh dalam diri mereka sendiri, dan telah melampaui batas dengan cara yang sebesar-besarnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

اَوْ نَرٰی رَبَّنَاط ”اللہ کے حضور حاضری پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی طبیعتوں میں سر کشی اور لاپرواہی پائی جاتی ہے۔ چناچہ ایمان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے جواب میں وہ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا ہی تھا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے بھجواتا یا وہ خود ہمارے سامنے آجاتا اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔ یا یہ کہ اللہ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جاتا جس سے ہم پر واضح ہوجاتا کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ ان کے ایسے مطالبات کا ذکر مکیّ سورتوں میں بار بار کیا گیا ہے۔لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ”ان کے یہ مطالبات ان کے استکبار کا ثبوت اور ان کی سر کشی کی دلیل ہیں۔ گویا وہ خود کو اس لائق سمجھتے ہیں کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہو اور اللہ خود ان کے روبرو ان سے ہم کلام ہو۔