Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Buruuj 85:11

85:11
ان الذين امنوا وعملوا الصالحات لهم جنات تجري من تحتها الانهار ذالك الفوز الكبير ١١
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْكَبِيرُ ١١
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
لَهُمۡ
جَنَّٰتٞ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ
ذَٰلِكَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡكَبِيرُ
١١
Sesungguhnya orang-orang yang beriman dan beramal soleh, mereka akan beroleh Syurga yang mengalir di bawahnya beberapa sungai; yang demikian itu ialah kemenangan yang besar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

ان الذین ................................ انھر (11:85) ”” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “۔ یہ ہے حقیقی نجات اور کامیابی۔

ذلک الفوزالکبیر (11:85) ” یہ ہے بڑی کامیابی “۔ فوز کے معنی نجات اور کامیابی کے ہیں۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہی بڑی کامیابی ہے اور باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ تو کامیابی پر کامیابی ہے۔ آخرت کے اس انجام پر اب یہ واقعہ مکمل ہوتا ہے اور یہی ہے حقیقی خاتمہ اور انجام دونوں فریقوں کے موقف کا۔ زمین میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ حقیقی واقعات کا ایک حصہ ہوتے ہیں ، یہ تمام واقعہ نہیں ہوتے ، اس واقعہ پر آگے جو تبصرے آتے ہیں ان میں سے پہلا تبصرہ اسی غرض کے لئے ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی جائے کہ واقعات دنیا ہی میں ختم نہیں ہوتے۔ اس دور میں ، جب یہ سورت نازل ہوئی مکہ مکرمہ میں مٹھی بھر مسلمان اس قسم کی مصیبتیں جھیل رہے تھے اسی طرح دنیا کے کسی زمان ومکان ہیں جو لوگ اسلام کے لئے کام کرتے ہیں اور ان پر تشدد ہوتا ہے تو ان کو بھی یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان فتنہ سامانیوں کا انجام قیامت میں سامنے آئے گا۔