Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ahqaaf 46:35

46:35
فاصبر كما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لهم كانهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا الا ساعة من نهار بلاغ فهل يهلك الا القوم الفاسقون ٣٥
فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَـٰغٌۭ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ٣٥
فَٱصۡبِرۡ
كَمَا
صَبَرَ
أُوْلُواْ
ٱلۡعَزۡمِ
مِنَ
ٱلرُّسُلِ
وَلَا
تَسۡتَعۡجِل
لَّهُمۡۚ
كَأَنَّهُمۡ
يَوۡمَ
يَرَوۡنَ
مَا
يُوعَدُونَ
لَمۡ
يَلۡبَثُوٓاْ
إِلَّا
سَاعَةٗ
مِّن
نَّهَارِۭۚ
بَلَٰغٞۚ
فَهَلۡ
يُهۡلَكُ
إِلَّا
ٱلۡقَوۡمُ
ٱلۡفَٰسِقُونَ
٣٥
(Jika demikian akibat orang-orang kafir yang menentangmu wahai Muhammad) maka bersabarlah engkau sebagaimana sabarnya Rasul-rasul "Ulil-Azmi" (yang mempunyai keazaman dan ketabahan hati) dari kalangan Rasul-rasul (yang terdahulu daripadamu); dan janganlah engkau meminta disegerakan azab untuk mereka (yang menentangmu itu). Sesungguhnya keadaan mereka semasa melihat azab yang dijanjikan kepada mereka, merasai seolah-olah mereka tidak tinggal (di dunia) melainkan sekadar satu saat sahaja dari siang hari. (Penerangan yang demikian) cukuplah menjadi pelajaran (bagi orang-orang yang mahu insaf). Maka (ingatlah) tidak dibinasakan melainkan kaum yang fasik - derhaka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ صبر در اصل اس کا نام ہے کہ مدعو کی ایذا رسانیوں کو داعی یک طرفہ طور پر نظر انداز کرے۔ وہ مدعو کے ضد اور انکار کے باوجود مسلسل اس کو دعوت پہنچاتا رہے۔ داعی اپنے مدعو کا ہرحال میں خیر خواہ بنا رہے۔ خواہ مدعو کی طرف سے اس کو کتنی ہی زیادہ ناخوش گواریوں کا تجربہ کیوں نہ ہو رہا ہو۔ یہ یک طرفہ صبر اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر مدعو کے اوپر خدا کی حجت تمام نہیں ہوتی۔

خدا کے تمام پیغمبروں نے ہر زمانہ میں اسی طرح صبر و استقامت کے ساتھ دعوت حق کا کام کیا ہے۔ آئندہ بھی پیغمبروں کی نیابت میں جو لوگ دعوت حق کا کام کریں ان کو اسی نمونہ پر دعوت کا کام کرنا ہے۔ خدا کے یہاں داعی کا مقام صرف انہیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو یک طرفہ برداشت کا حوصلہ دکھا سکیں۔