Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
44:3
انا انزلناه في ليلة مباركة انا كنا منذرين ٣
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةٍۢ مُّبَـٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ٣
إِنَّآ
أَنزَلۡنَٰهُ
فِي
لَيۡلَةٖ
مُّبَٰرَكَةٍۚ
إِنَّا
كُنَّا
مُنذِرِينَ
٣
Sesungguhnya Kami telah menurunkan Al-Quran itu pada malam yang berkat; (Kami berbuat demikian) kerana sesungguhnya Kami sentiasa memberi peringatan dan amaran (jangan hamba-hamba Kami ditimpa azab).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 3 { اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } ”یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں“ یہ مضمون سورة القدر میں واضح تر انداز میں آیا ہے : { اِنَّآاَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ کہ ہم نے اسے ”لیلۃ القدر“ میں نازل فرمایا۔ چونکہ قرآن مجید میں عام طور پر اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ آئے ہیں اس لیے اس خاص رات کا ذکر بھی دو مرتبہ آیا ہے۔ وہاں ”لیلۃ القدر“ کے نام سے اور یہاں ”لیلۃ مبارکۃ“ کے نام سے۔ { اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ } ”یقینا ہم خبردار کردینے والے ہیں۔“ رسالت اور انزالِ کتب کا اصل مقصد لوگوں کا انذار خبردار کرنا ‘ آگاہ کرنا ہے۔ جیسے سورة المدثر میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا : { یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ ”اے چادر اوڑھنے والے ‘ اٹھئے اور لوگوں کو خبردار کیجیے“۔ دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں ہے۔ یہ تو اصل ”کتاب زندگی“ کے دیباچے کی مانند ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہونے والی ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے لوگوں کو خبردار warn کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل علیہ السلام اور الہامی کتب کے ذریعے ہدایت کے ایک سلسلے کا اہتمام فرمایا تاکہ ان میں اصل اور ہمیشہ کی زندگی کو بہتر بنانے کا شعور پیداہو اور وہ اس کے لیے تیاری کرسکیں : { وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّلَعِبٌط وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ العنکبوت ”یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ‘ جبکہ آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“