Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-An'aam 6:68

6:68
واذا رايت الذين يخوضون في اياتنا فاعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره واما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين ٦٨
وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٦٨
وَإِذَا
رَأَيۡتَ
ٱلَّذِينَ
يَخُوضُونَ
فِيٓ
ءَايَٰتِنَا
فَأَعۡرِضۡ
عَنۡهُمۡ
حَتَّىٰ
يَخُوضُواْ
فِي
حَدِيثٍ
غَيۡرِهِۦۚ
وَإِمَّا
يُنسِيَنَّكَ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
فَلَا
تَقۡعُدۡ
بَعۡدَ
ٱلذِّكۡرَىٰ
مَعَ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٦٨
Dan apabila engkau melihat orang-orang yang memperkatakan dengan cara mencaci atau mengejek-ejek ayat-ayat Kami, maka tinggalkanlah mereka sehingga mereka memperkatakan soal yang lain; dan jika engkau dilupakan oleh Syaitan (lalu engkau duduk bersama mereka), maka janganlah engkau duduk lagi bersama-sama kaum yang zalim itu, sesudah engkau mengingati (akan larangan itu).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

(آیت) ” نمبر 68۔

یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں ہو رہی ہوں تو آپ یاد آتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل اسلام سب کو یہی حکم تھا ۔ یہاں ظالمون سے مراد مشرکون ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز گفتگو ہے ۔

لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو اس وقت مشرکین کے مقابلے میں حضور ﷺ کی پوزیشن مختلف تھی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ حضور ﷺ ان کے مقابلے میں اس وقت تک جہاد و قتال جاری رکھے ہوئے تھے جب تک تمام فتنوں کا استیصال نہیں کردیا جاتا اور کسی کو یہ جرات ہی نہی رہتی کہ وہ آیات الہیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کرے ۔

اس کے بعد سیاق کلام مومنین اور مشرکین کے درمیان مکمل فرق و امتیاز کی بات کو پھر دہراتا ہے جس طرح اس سے قبل رسول اللہ ﷺ اللہ اور مشرکین کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ یہاں فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دونوں کے انجام اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے ۔