Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Haaqqah 69:46

69:46
ثم لقطعنا منه الوتين ٤٦
ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَ ٤٦
ثُمَّ
لَقَطَعۡنَا
مِنۡهُ
ٱلۡوَتِينَ
٤٦
Kemudian sudah tentu Kami akan memutuskan tali jantungnya (supaya ia mati dengan serta-merta);
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 69:44 hingga 69:47

ولو تقول .................... حجزین

ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔