Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ma'idah 5:120

5:120
لله ملك السماوات والارض وما فيهن وهو على كل شيء قدير ١٢٠
لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ ١٢٠
لِلَّهِ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
فِيهِنَّۚ
وَهُوَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرُۢ
١٢٠
Allah jualah yang menguasai alam langit dan bumi serta segala yang ada padanya; dan Dia lah jua yang Maha Kuasa atas tiap-tiap sesuatu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

(آیت) ” 120۔

یہ ایک ایسا اختتامی تبصرہ ہے جو اس عظیم مسئلے کی بحث کے خاتمے کے لئے موزوں اور مناسب ہے ۔ نیز اس عظیم منظر سے جو تاثر ملتا ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ یہاں اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔

اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔