Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Az-Zukhruf 43:81

43:81
قل ان كان للرحمان ولد فانا اول العابدين ٨١
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌۭ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَـٰبِدِينَ ٨١
قُلۡ
إِن
كَانَ
لِلرَّحۡمَٰنِ
وَلَدٞ
فَأَنَا۠
أَوَّلُ
ٱلۡعَٰبِدِينَ
٨١
Katakanlah (Wahai Muhammad, kepada mereka yang musyrik itu): "Kalau betul Allah yang maha pemurah, mempunyai anak (sebagaimana yang kamu dakwakan) maka akulah orang yang awal pertama yang akan menyembah anak itu; (tetapi dakwaan kamu itu tidak berasas)!"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 43:81 hingga 43:83

آیت نمبر 81 تا 83

یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔

سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔

٭٭٭