Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:32

27:32
قالت يا ايها الملا افتوني في امري ما كنت قاطعة امرا حتى تشهدون ٣٢
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢
قَالَتۡ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلۡمَلَؤُاْ
أَفۡتُونِي
فِيٓ
أَمۡرِي
مَا
كُنتُ
قَاطِعَةً
أَمۡرًا
حَتَّىٰ
تَشۡهَدُونِ
٣٢
Raja perempuan itu berkata lagi: "Wahai ketua-ketua kaum, berilah penjelasan kepadaku mengenai perkara yang aku hadapi ini; aku tidak pernah memutuskan sesuatu perkara sebelum kamu hadir memberi pendapat dan mempersetujuinya".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

قالت ……تشھدون (23)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا کس قدر ہوشیار عورت ہے اس نے اس خط کو لیا جبکہ اس کے پھینکنے والے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک ہے اور جس نے لکھا ہے وہ کوئی سپرطاقت ہے۔ یہ تاثر اس نے اپنے اہل حل و عقد کے ذہنوں میں یوں منتقل کیا کہ اس نے اسے ایک اہم کھلا اور کتاب کریم کہا۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکلہ مقابلہ کرنا نہیں چاہتی لیکن وہ بصراحت اس کا اظہار بھی نہیں کرتی۔ بطور تمہید کہہ دیتی ہے۔ پھر رائے طلب کرتی ہے اور حاشیہ نشینوں کا جواب آتا ہے۔ وہ حسب عادت یہی کہتے ہیں کہ حکم کیجیے ہم تیار ہیں۔ طاقتور ہیں لیکن بہرحال فیصلہ بدست حضور ہے !