Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Taha 20:81

20:81
كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى ٨١
كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ ٨١
كُلُواْ
مِن
طَيِّبَٰتِ
مَا
رَزَقۡنَٰكُمۡ
وَلَا
تَطۡغَوۡاْ
فِيهِ
فَيَحِلَّ
عَلَيۡكُمۡ
غَضَبِيۖ
وَمَن
يَحۡلِلۡ
عَلَيۡهِ
غَضَبِي
فَقَدۡ
هَوَىٰ
٨١
Serta Kami katakan: Makanlah dari benda-benda yang baik yang Kami kurniakan kepada kamu, dan janganlah kamu melampaui batas padanya, kerana dengan yang demikian kamu akan ditimpa kemurkaanKu; dan sesiapa yang ditimpa kemurkaanKu, maka sesungguhnya binasalah ia.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (02 : 18) ” سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ “ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔

یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی اور عیش پرستی ان کو گمراہ نہ کر دے۔ وہ عیش پرستی اختیار کر کے کمزور نہ ہوجائیں۔ لیکن اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کسی سے غلطی ہو تو وہ واپس آسکے۔