Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Taha 20:126

20:126
قال كذالك اتتك اياتنا فنسيتها وكذالك اليوم تنسى ١٢٦
قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ ءَايَـٰتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلْيَوْمَ تُنسَىٰ ١٢٦
قَالَ
كَذَٰلِكَ
أَتَتۡكَ
ءَايَٰتُنَا
فَنَسِيتَهَاۖ
وَكَذَٰلِكَ
ٱلۡيَوۡمَ
تُنسَىٰ
١٢٦
Allah berfirman: "Demikianlah keadaannya! Telah datang ayat-ayat keterangan Kami kepadamu, lalu engkau melupakan serta meninggalkannya, dan demikianlah engkau pada hari ini dilupakan serta ditinggalkan".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:126 hingga 20:127

ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔

یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ جنت سے اترنا اور بدبختی اور گمراہی میں پڑنا اس کے مقابلے میں جنت کی طرف واپسی اور گمراہی اور مصیبت سے نجات۔ دنیا میں کشیادگی رزق اور اس کے مقابلے میں تنگ معیشت ، ہدایت کے مقابلے میں اندھا وہنا اور راہ نہ پانا۔ یہ تمام باہم مفہم قصہ آدم و قصہ بشریت کے ضمن میں ہیں جو پوری بشریت کی کہانی ہے۔ چناچہ اس منظر کا آغاز بھی مثبت ہے اور اختتام بھی جنت میں ہوتا ہے اور یہی انداز تعبیر سورة اعراف میں بھی ہے۔ مگر تعبیرات میں تصویر کشی کا انداز ، موقعہ و محل کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں مختلف ہے۔

یہ تو تھا جنت کا ایک منظر اب اس دنیا میں زمانہ مضای قریب کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات کی طرف اشارہ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کو آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جبکہ جنت کے مناظر نظروں سے اوجھل عالم غیب میں تھے۔ نظریں ان کے آثار کو نہیں دیکھ سکتیں۔