Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:62

17:62
قال ارايتك هاذا الذي كرمت علي لين اخرتن الى يوم القيامة لاحتنكن ذريته الا قليلا ٦٢
قَالَ أَرَءَيْتَكَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلًۭا ٦٢
قَالَ
أَرَءَيۡتَكَ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
كَرَّمۡتَ
عَلَيَّ
لَئِنۡ
أَخَّرۡتَنِ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
لَأَحۡتَنِكَنَّ
ذُرِّيَّتَهُۥٓ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٦٢
Ia berkata lagi: "Khabarkanlah kepadaku, inikah orangnya yang Engkau muliakan mengatasiku? Jika Engkau beri tempoh kepadaku hingga hari kiamat, tentulah aku akan memancing menyesatkan zuriat keturunannya, kecuali sedikit (di antaranya)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

قال ارائیتک ھذا الذی کر مت علی (71 : 26) ” ذرا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی “۔ اس پر نظر تو ڈالو ! کیا اس کو تو نے مجھ سے برتر قرار دیا ، اور لقد کرمنا بنی ادم کہا۔

لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لا حتنکن ذریتہ الا قلیلا (71 : 26) ” اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں ، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے “۔ میں ان پر حاوی ہوجائوں گا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لوں گا ، ان کی لگام میرے ہاتھ میں ہوگی ، بلکہ یہ میری مٹھی میں ہوں گے اور جس طرح چاہوں گا ان کے معاملات میں تصرف کردوں گا۔

شیطان کے دہن میں چیلنج دیتے وقت یہ حقیقت نہ تھی کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جس طرح گمراہی کی استعداد رکھی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ہدایت اور قبولیت خیر کی استعداد بھی رکھی ہے۔ جب انسان ایسے حالات میں ہو کہ اس کا تعلق باللہ قائم ہو تو وہ بلند ہوگا اور اعلیٰ مدارج کی طرف اٹھنے والا ہوگا اور ایسے حالات میں وہ شر اور گمراہی سے بچ جائے گا ، شیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ بلا ارادہ چلنے والے حیوانات کی طرح نہیں ہے بلکہ انسان کو قوت ارادی دی گئی ہے جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ ارادہ اور پختہ ارادہ ہی اس مخلوق کی بڑی امتیازی خصوصیت ہے اور اس کے اندر اس مخلوق کا راز پنہاں ہے۔ اللہ کا یہ ارادہ ہوگیا کہ شرو گمراہی کے اس پیغامبر کو کھلا میدان دے دیا جائے اور جس طرح چاہے انسان کو گمراہ کرنے کی سعی کرے۔