Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:67

12:67
وقال يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقة وما اغني عنكم من الله من شيء ان الحكم الا لله عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون ٦٧
وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧
وَقَالَ
يَٰبَنِيَّ
لَا
تَدۡخُلُواْ
مِنۢ
بَابٖ
وَٰحِدٖ
وَٱدۡخُلُواْ
مِنۡ
أَبۡوَٰبٖ
مُّتَفَرِّقَةٖۖ
وَمَآ
أُغۡنِي
عَنكُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
مِن
شَيۡءٍۖ
إِنِ
ٱلۡحُكۡمُ
إِلَّا
لِلَّهِۖ
عَلَيۡهِ
تَوَكَّلۡتُۖ
وَعَلَيۡهِ
فَلۡيَتَوَكَّلِ
ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
٦٧
Dan ia berkata lagi: "Wahai anak-anakku! Janganlah kamu masuk (ke bandar Mesir) dari sebuah pintu sahaja, tetapi masuklah dari beberapa buah pintu yang berlainan. Dan aku (dengan nasihatku ini), tidak dapat menyelamatkan kamu dari sesuatu takdir yang telah ditetapkan oleh Allah. Kuasa menetapkan sesuatu (sebab dan musabab) itu hanya tertentu bagi Allah. KepadaNyalah aku berserah diri, dan kepadaNyalah hendaknya berserah orang-orang yang mahu berserah diri".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت نمبر 67

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔

اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اور یہ شرعی احکام ہیں جو قرآن اور سنت میں امرو نہی صادر نہیں کرسکتا۔ ان احکام کا حکم بھی تقدیری اور تکوینی احکام کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرعی احکام میں لوگ مختار ہیں ، ان کو نافذ کریں یا نہ کریں ، اور اسی پر دنیا اور آخرت میں ان کی زندگی کے اعمال پر نتائج اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اور سزا اور جزاء کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کے شرعی احکام کو بھی اپنی پوری زندگیوں میں نافذ نہ کریں۔