Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Hud 11:98

11:98
يقدم قومه يوم القيامة فاوردهم النار وبيس الورد المورود ٩٨
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ ٩٨
يَقۡدُمُ
قَوۡمَهُۥ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
فَأَوۡرَدَهُمُ
ٱلنَّارَۖ
وَبِئۡسَ
ٱلۡوِرۡدُ
ٱلۡمَوۡرُودُ
٩٨
Firaun akan mengetuai kaumnya pada hari kiamat kemudian tetaplah ia akan membawa mereka masuk ke neraka. Dan seburuk-buruk tempat yang dimasuki ialah neraka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔

(فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔

بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :