Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Hud 11:38

11:38
ويصنع الفلك وكلما مر عليه ملا من قومه سخروا منه قال ان تسخروا منا فانا نسخر منكم كما تسخرون ٣٨
وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ ٣٨
وَيَصۡنَعُ
ٱلۡفُلۡكَ
وَكُلَّمَا
مَرَّ
عَلَيۡهِ
مَلَأٞ
مِّن
قَوۡمِهِۦ
سَخِرُواْ
مِنۡهُۚ
قَالَ
إِن
تَسۡخَرُواْ
مِنَّا
فَإِنَّا
نَسۡخَرُ
مِنكُمۡ
كَمَا
تَسۡخَرُونَ
٣٨
Dan Nabi Nuh pun membuat bahtera itu, dan tiap-tiap kali sepuak dari kaumnya melalui tempat ia membina bahteranya, mereka mengejek-ejeknya. Nabi Nuh pun menjawab: "Jika kamu memandang kami bodoh (kerana membuat bahtera ini), maka sesungguhnya kami juga memandang kamu bodoh (kerana keingkaran kamu), sebagai (balasan) ejekan kamu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 11:38 hingga 11:39

اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔

عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔