Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Hud 11:109

11:109
فلا تك في مرية مما يعبد هاولاء ما يعبدون الا كما يعبد اباوهم من قبل وانا لموفوهم نصيبهم غير منقوص ١٠٩
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ ١٠٩
فَلَا
تَكُ
فِي
مِرۡيَةٖ
مِّمَّا
يَعۡبُدُ
هَٰٓؤُلَآءِۚ
مَا
يَعۡبُدُونَ
إِلَّا
كَمَا
يَعۡبُدُ
ءَابَآؤُهُم
مِّن
قَبۡلُۚ
وَإِنَّا
لَمُوَفُّوهُمۡ
نَصِيبَهُمۡ
غَيۡرَ
مَنقُوصٖ
١٠٩
Maka janganlah engkau (wahai Muhammad) menaruh perasaan ragu-ragu tentang sia-sianya apa yang disembah oleh mereka yang musyrik itu. Mereka tidak menyembah melainkan sama seperti yang disembah oleh datuk nenek mereka yang musyrik dahulu. Dan sesungguhnya Kami akan menyempurnakan bagi mereka bahagian mereka (dari azab yang telah ditentukan) dengan tidak dikurangi.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔

فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (109 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ”

لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔

وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (11 : 109) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔