Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Bayan ul Quran Tafsir: Taha Ayah 132

20:132
وامر اهلك بالصلاة واصطبر عليها لا نسالك رزقا نحن نرزقك والعاقبة للتقوى ١٣٢
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًۭا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ١٣٢
وَأۡمُرۡﲠ
أَهۡلَكَﲡ
بِٱلصَّلَوٰةِﲢ
وَٱصۡطَبِرۡﲣ
عَلَيۡهَاۖﲤﲥ
لَاﲦ
نَسۡـَٔلُكَﲧ
رِزۡقٗاۖﲨﲩ
نَّحۡنُﲪ
نَرۡزُقُكَۗﲫﲬ
وَٱلۡعَٰقِبَةُﲭ
لِلتَّقۡوَىٰﲮ
١٣٢ﲯ
Comanda la preghiera alla tua gente e assiduamente assolvila. Non ti chiediamo alcun nutrimento: siamo Noi a nutrirti! Il felice esito è nel timore di Allah.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 20:131 a 20:132

آیت 131 وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ”ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت 88 میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ ﷺ کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط ” آپ ﷺ تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ ﷺ تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الکہف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ”ہم نے تو جو کچھ بھی زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار بنایا ہے تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔“وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی رض ”اور وہ رزق کون سا ہے ؟ سورة الحجر کی آخری آیات سے موازنہ کریں جن آیات سے ان آیات کی مشابہت کا ذکر کیا گیا ہے تو اس سوال کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے : وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ”اور ہم نے آپ ﷺ کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن۔“یعنی سورة الفاتحہ کی سات آیات ! یہ سورت ایک مؤمن کے لیے زندگی بھر کا وظیفہ ہے۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں وہ اس کی تلاوت کرتا ہے۔ گویا یہ روحانی غذا اور روحانی دولت جو ایک مؤمن کو اپنے نبی ﷺ کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ‘ دنیوی مال و متاع سے کہیں زیادہ عمدہ اور کہیں زیادہ باقی رہنے والی ہے۔