Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua
19:11
فخرج على قومه من المحراب فاوحى اليهم ان سبحوا بكرة وعشيا ١١
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنَ ٱلْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا۟ بُكْرَةًۭ وَعَشِيًّۭا ١١
فَخَرَجَ
عَلَىٰ
قَوۡمِهِۦ
مِنَ
ٱلۡمِحۡرَابِ
فَأَوۡحَىٰٓ
إِلَيۡهِمۡ
أَن
سَبِّحُواْ
بُكۡرَةٗ
وَعَشِيّٗا
١١
Uscì dall’oratorio 1verso la sua gente e indicò loro di rendere gloria [al Signore] al mattino e alla sera.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

آیت 11 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ اپنی عبادت ‘ رازو نیاز اور مناجات کے بعد حضرت زکریا علیہ السلام اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے لوگوں کی طرف آئے۔فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّاآپ علیہ السلام نے لوگوں کو اشاروں کنایوں سے سمجھایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہے ‘ لہٰذا تم لوگ صبح وشام کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہو۔ عربی میں ”وحی“ کے لغوی معنی ہیں : الاعلام بالسِّر والخِفاء ‘ یعنی کسی کو اشارے سے کوئی بات اس طرح بتانا کہ دوسروں کو پتا نہ چلے۔ انبیاء ورسل علیہ السلام کی طرف جو وحی آتی ہے اس کی کیفیت بھی یہی ہوتی ہے۔ وحی کی مختلف صورتوں کا تذکرہ بیان القرآن ‘ جلد اول کے آغاز میں ”تعارف قرآن“ کے ضمن میں آچکا ہے۔ آگے سورة الشوریٰ میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد اب ان کو براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے :