Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 37

27:37
ارجع اليهم فلناتينهم بجنود لا قبل لهم بها ولنخرجنهم منها اذلة وهم صاغرون ٣٧
ٱرْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍۢ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةًۭ وَهُمْ صَـٰغِرُونَ ٣٧
ٱرۡجِعۡﱓ
إِلَيۡهِمۡﱔ
فَلَنَأۡتِيَنَّهُمﱕ
بِجُنُودٖﱖ
لَّاﱗ
قِبَلَﱘ
لَهُمﱙ
بِهَاﱚ
وَلَنُخۡرِجَنَّهُمﱛ
مِّنۡهَآﱜ
أَذِلَّةٗﱝ
وَهُمۡﱞ
صَٰغِرُونَﱟ
٣٧ﱠ
Ritornate dai vostri. Marceremo contro di loro con armate alle quali non potranno resistere e li scacceremo, umiliati e miserabili».
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 27:36 a 27:37

حضرت سلیمان کو نبوت اور خدا کی معرفت کی شکل میں جو قیمتی دولت ملی تھی، اس کے مقابلہ میں ہر دوسری دولت ان کی نظر میں ہیچ ہوچکی تھی۔ چنانچہ ملکہ سبا کی طرف سے جب ان کے پاس سونے چاندی کے تحفے پہنچے تو انھوں نے ان کی طرف نگاہ بھی نہ کی۔

حضرت سلیمان نے اپنے عمل سے ملکہ سبا کے سفیروں کو یہ تاثر دیا کہ میرا معاملہ اصولی معاملہ ہے، نہ کہ مفاد کا معاملہ۔ مفسر ابن کثیر اس کی تشریح میں یہ الفاظ لکھتے ہیںأَيْأَتُصَانِعُونَنِي بِمَالٍ لِأَتْرُكَكُمْ عَلَى شِرْكِكُمْ وَمُلْكِكُمْ؟! (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 191 )یعنی، کیا تم مال دے کر مجھ کو متاثر کرنا چاہتے ہو کہ میں تم کو تمھارے شرک پر چھوڑ دوں اور تمھاری حکومت تمھارے پاس رہنے دوں۔