Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: An-Nahl 16:38

16:38
واقسموا بالله جهد ايمانهم لا يبعث الله من يموت بلى وعدا عليه حقا ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٣٨
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٣٨
وَأَقۡسَمُواْ
بِٱللَّهِ
جَهۡدَ
أَيۡمَٰنِهِمۡ
لَا
يَبۡعَثُ
ٱللَّهُ
مَن
يَمُوتُۚ
بَلَىٰ
وَعۡدًا
عَلَيۡهِ
حَقّٗا
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَ
ٱلنَّاسِ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٣٨
Giurano su Allah, con il più solenne dei giuramenti: «Allah non risusciterà il morto». E invece sì! Vera promessa che Egli [Si assume], ma la maggior parte degli uomini nulla conosce;
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 16:38 a 16:39
قیامت یقینا قائم ہو گی ٭٭

کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لیے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لیے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا -

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ بر حق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لاعلمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں “۔

پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہو جائے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے “۔

اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:14-16] ‏ ” یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے “۔

صفحہ نمبر4447