Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Ma'idah 5:13

5:13
فبما نقضهم ميثاقهم لعناهم وجعلنا قلوبهم قاسية يحرفون الكلم عن مواضعه ونسوا حظا مما ذكروا به ولا تزال تطلع على خاينة منهم الا قليلا منهم فاعف عنهم واصفح ان الله يحب المحسنين ١٣
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـٰقَهُمْ لَعَنَّـٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَـٰسِيَةًۭ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍۢ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ ١٣
فَبِمَا
نَقۡضِهِم
مِّيثَٰقَهُمۡ
لَعَنَّٰهُمۡ
وَجَعَلۡنَا
قُلُوبَهُمۡ
قَٰسِيَةٗۖ
يُحَرِّفُونَ
ٱلۡكَلِمَ
عَن
مَّوَاضِعِهِۦ
وَنَسُواْ
حَظّٗا
مِّمَّا
ذُكِّرُواْ
بِهِۦۚ
وَلَا
تَزَالُ
تَطَّلِعُ
عَلَىٰ
خَآئِنَةٖ
مِّنۡهُمۡ
إِلَّا
قَلِيلٗا
مِّنۡهُمۡۖ
فَٱعۡفُ
عَنۡهُمۡ
وَٱصۡفَحۡۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يُحِبُّ
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
١٣
Ma essi ruppero l’alleanza e Noi li maledicemmo e indurimmo i loro cuori: stravolgono il senso delle parole 1 e dimenticano gran parte di quello che è stato loro rivelato 2 . Non cesserai di scoprire tradimenti da parte loro, eccetto alcuni. Sii indulgente con loro e dimentica. Allah ama i magnanimi.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
باب

اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا۔

لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔

صفحہ نمبر2232

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے چشم پوشی کیجئے “، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔‏“

اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔‏“

صفحہ نمبر2233