Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua
67:30
قل ارايتم ان اصبح ماوكم غورا فمن ياتيكم بماء معين ٣٠
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًۭا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَآءٍۢ مَّعِينٍۭ ٣٠
قُلۡ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِنۡ
أَصۡبَحَ
مَآؤُكُمۡ
غَوۡرٗا
فَمَن
يَأۡتِيكُم
بِمَآءٖ
مَّعِينِۭ
٣٠
Di’: «Cosa credete? Se la vostra acqua rientrasse nelle profondità [della terra] chi vi procurerebbe acqua sorgiva?».   1 Vedi note a XV,e XXXVII,2 «il Sottile»: in arabo «al-Latìf» con il senso di perspicace, acuto, capace di percepire anche le parti più nascoste, profondo; altro significato, il Dolce, Colui che mitiga le pene. 3 «il volto rivolto al suolo»: colui che presta attenzione solo al lato materiale della vita.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

آیت 30{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ بِمَآئٍ مَّعِیْنٍ۔ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف ‘ نتھرا ہواپانی ؟“ آج کے دور میں اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ آج متعلقہ ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بارشوں کی کمی کے باعث مستقبل قریب میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جاسکتی ہے۔ بیشتر علاقوں میں انسانی ‘ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا زیادہ تر دار و مدار زیرزمین پانی پر ہی ہے جو عموماً آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ صاف شفاف اور میٹھے پانی کا یہ عظیم الشان ذخیرہ ”زندگی“ کے لیے قدرت کا بہت بڑا عطیہ ہے۔ اگر یہ پانی واقعی ایسی گہرائی میں چلا جائے جہاں سے اس کا نکالنا ناممکن یا مشکل ہوجائے تو اس کے نتائج کا تصور بھی روح فرسا ہے۔