Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua
2:25
وبشر الذين امنوا وعملوا الصالحات ان لهم جنات تجري من تحتها الانهار كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هاذا الذي رزقنا من قبل واتوا به متشابها ولهم فيها ازواج مطهرة وهم فيها خالدون ٢٥
وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا۟ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍۢ رِّزْقًۭا ۙ قَالُوا۟ هَـٰذَا ٱلَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا۟ بِهِۦ مُتَشَـٰبِهًۭا ۖ وَلَهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٢٥
وَبَشِّرِ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
أَنَّ
لَهُمۡ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ
كُلَّمَا
رُزِقُواْ
مِنۡهَا
مِن
ثَمَرَةٖ
رِّزۡقٗا
قَالُواْ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
رُزِقۡنَا
مِن
قَبۡلُۖ
وَأُتُواْ
بِهِۦ
مُتَشَٰبِهٗاۖ
وَلَهُمۡ
فِيهَآ
أَزۡوَٰجٞ
مُّطَهَّرَةٞۖ
وَهُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٢٥
E annuncia a coloro che credono e compiono il bene, che avranno i Giardini in cui scorrono i ruscelli 1 . Ogni volta che sarà loro dato un frutto diranno: «Già ci era stato concesso!» 2 . Ma è qualcosa di simile che verrà loro dato; avranno spose purissime e colà rimarranno in eterno.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 2:21 a 2:25

انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے۔ وہ ہر آن ان کی پرورش کررہا ہے۔ اس لیے انسان کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک اور رازق تسلیم کرے، وہ اس کو اپنا سب کچھ بنالے۔ مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی کے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو، جزئی یا کلی طورپر، خالق کے برابر ٹھہرا لیتا ہے، کبھی اس کو خدا کا نام دے کر اور کبھی خدا کا نام دیے بغیر۔

یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا مقام دے۔ اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔ جب خالص خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرنے لگتے ہیں جن کا دل خدا کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔جنھوں نے خدا کے سوا کسی اور کے لیے بھی عظمت کو خاص کررکھا ہو۔ ایسے لوگوں کو اپنے فرضی معبودوں سے جو شدید تعلق ہوچکا ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ بے حقیقت ہیں اور حقیقت صرف اس پیغام کی ہے جو آدمیوں میںسے ایک آدمی کی زبان سے سنایا جارہا ہے۔

جو دعوت خدا کی طرف سے اٹھے اس کے اندر لازمی طورپر خدائی شان شامل ہوجاتی ہے۔ اس کا ناقابلِ تقلید اسلوب اور اس کا غیر مفتوح استدلال اس بات کی کھلی علامت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ انکار کریں ان کو خدا کی دنیا میں جہنم کے سوا کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی۔ البتہ جو لوگ خدا کے کلام میں خدا کو پالیں انھوں نے گویا آج کی دنیا میں کل کی دنیا کو دیکھ لیا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت کے باغوں میں داخل کيے جائیں گے۔