Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Balad 90:20

90:20
عليهم نار موصدة ٢٠
عَلَيْهِمْ نَارٌۭ مُّؤْصَدَةٌۢ ٢٠
عَلَيۡهِمۡ
نَارٞ
مُّؤۡصَدَةُۢ
٢٠
Il Fuoco si chiuderà su di loro. 1 La città della Mecca e il suo territorio. 2 «perché combatta»: la lotta per la salvezza della sua anima e quella per la sua sopravvivenza. Un altro significato ammesso: «creammo l’uomo nella sofferenza». 3 Forse l’uomo teme che la sua elemosina non gli servirà. Secondo un’altra interpretazione si tratta del discorso di chi millanta una generosità che non ha mai manifestato. Nel versetto successivo Allah (gloria a Lui l’Altissimo) gli risponde indicandogli le vie del bene. 4 «la via ascendente»: verso l’Altissimo. È anche possibile che il versetto alluda alla difficoltà che prova l’uomo nel controllare le sue passioni. 5 Lett.: «Sciogliere un collo». NellTslàm, la liberazione degli schiavi in tutte le sue forme è opera altamente meritoria e addirittura prescritta (a chi ne abbia la possibilità) come espiazione obbligatoria di alcune mancanze. 6 Riceveranno il registro delle loro azioni nella destra o nella sinistra. Vedi in proposito lxxxiv,e la nota.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 90:19 a 90:20

والذین ........................ موصدة

” بائیں بازو والے فریق کے بیان میں دوسری صفات کو ترک کردیا گیا ہے۔

والذین ................ بایتنا (19:90) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا “۔ کیونکہ جب کافر ہوگئے تو بات ختم ہوگئی۔ کفر کے ساتھ کوئی نیکی جمع ہی نہیں ہوسکتی اور نہ کسی برائی کا علیحدہ اعتبار ہوتا ہے اس لئے کہ ہر برائی کفر کے اندر ہی ہوتی ہے اور یہ کفر اسے ڈھانپ لیتا ہے ، لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ غلاموں کو آزاد نہیں کرتے ، اور کھانا نہیں کھلاتے ، پھر ان لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور کافر ہوگئے تو پھر کوئی نیکی ان کے لئے مفید ہی نہیں ہے۔

یہ بائیں ہاتھ کے لوگ ہیں یا بدبخت لوگ ، دونوں مفہوم مراد ہوسکتے ہیں ، وہ بائیں ہاتھ والے بھی ، اور منحوس بھی ہیں اور یہی دونوں مفہوم یعنی دائیں جانب اور نیک بخت ایمانی مفہوم میں بھی یکجا ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے جرات کرکے دشوار گزار گھاٹی کو عبور نہ کیا۔

علیھم ................ موصدة (20:90) ” ان پر آگ چھائی ہوئی ہے “۔ یعنی آگ کے دروازے ان پر بند ہیں یعنی حقیقی معنی میں کہ اندر کرکے ان پر جہنم کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور یا اس معنی میں کہ آگ کا عذاب ان پر چھایا ہوا ہے۔ یہ لازمی معنی ہے کہ وہ اس سے خارج نہ ہوسکیں گے۔ جب آگ کہ ہٹانہ سکیں گے تو وہ ان پر بند ہے۔ یہ دونوں مفہوم لازم وملزوم ہیں۔

یہ بنیادی حقائق جو اس انسان کی زندگی کا بنیادی امور ہیں ، ایمانی عقیدے کے اساسیات ہیں ، سب کے سب اس چند سطری سورت میں سمودیئے گئے ہیں اور نہایت وضاحت اور زور دار انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ہے ممتاز خصوصیت قرآن کے انداز بیان کی۔