Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Isra 17:56

17:56
قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا ٥٦
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ٥٦
قُلِ
ٱدۡعُواْ
ٱلَّذِينَ
زَعَمۡتُم
مِّن
دُونِهِۦ
فَلَا
يَمۡلِكُونَ
كَشۡفَ
ٱلضُّرِّ
عَنكُمۡ
وَلَا
تَحۡوِيلًا
٥٦
Di’ [loro]: «Invocate quelli che pretendete [essere dèi] all’infuori di Lui. Essi non sono in grado di evitarvi la sventura e neppure di al­lontanarla».
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 17:56 a 17:57
وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭

اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔

یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ [صحیح بخاری:4714] ‏

اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔

صفحہ نمبر4725

وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔

صفحہ نمبر4726