Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua
29:8
ووصينا الانسان بوالديه حسنا وان جاهداك لتشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما الي مرجعكم فانبيكم بما كنتم تعملون ٨
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حُسْنًۭا ۖ وَإِن جَـٰهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلَا تُطِعْهُمَآ ۚ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨
وَوَصَّيۡنَا
ٱلۡإِنسَٰنَ
بِوَٰلِدَيۡهِ
حُسۡنٗاۖ
وَإِن
جَٰهَدَاكَ
لِتُشۡرِكَ
بِي
مَا
لَيۡسَ
لَكَ
بِهِۦ
عِلۡمٞ
فَلَا
تُطِعۡهُمَآۚ
إِلَيَّ
مَرۡجِعُكُمۡ
فَأُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٨
Ordinammo all’uomo di trattare bene suo padre e sua madre; e: «…se essi ti vogliono obbligare ad associarMi ciò di cui non hai conoscenza alcuna, non obbedir loro». A Me ritornerete e vi informerò su quello che avete fatto.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 29:8 a 29:9

انسان پر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ جس کا حق ہے وہ اس کے ماں باپ ہیں مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح ماں باپ کے حقوق کی بھی ایک حد ہے۔ اور حدیث کے الفاظ میں وہ حد یہ ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 381 ۔

ماں باپ کے حقوق اسی وقت تک قابل لحاظ ہیں جب تک وہ خدا کے حقوق سے نہ ٹکرائیں۔ ماں باپ کا حکم جب خدا کے حکم سے ٹکرانے لگے تو اس وقت ماں باپ کا حکم نہ ماننا اتنا ہی ضروری ہوجائے گا جتنا عام حالات میں ماں باپ کا حکم ماننا ضروری ہوتاہے۔ اسلام میں ماں باپ کے حقوق سے مراد ماں باپ کی خدمت ہے، نہ کہ ماں باپ کی عبادت۔