Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: At-Tawbah 9:7

9:7
كيف يكون للمشركين عهد عند الله وعند رسوله الا الذين عاهدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ان الله يحب المتقين ٧
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَـٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ ٧
كَيۡفَ
يَكُونُ
لِلۡمُشۡرِكِينَ
عَهۡدٌ
عِندَ
ٱللَّهِ
وَعِندَ
رَسُولِهِۦٓ
إِلَّا
ٱلَّذِينَ
عَٰهَدتُّمۡ
عِندَ
ٱلۡمَسۡجِدِ
ٱلۡحَرَامِۖ
فَمَا
ٱسۡتَقَٰمُواْ
لَكُمۡ
فَٱسۡتَقِيمُواْ
لَهُمۡۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يُحِبُّ
ٱلۡمُتَّقِينَ
٧
Come potrebbe esserci un patto tra Allah e il Suo Messaggero e i politeisti, ad eccezione di coloro con i quali stipulaste un accordo presso la Santa Moschea 1 ? Finché si comportano rettamente con voi, comportatevi rettamente verso di loro. Allah ama i timorati.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
پابندی عہد کی شرائط ٭٭

اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے والے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔

یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی، ماہ ذی القعدہ سنہ ٦ ہجری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کہ قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیا ان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا اس بنا پر رمضان شریف ٨ ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کی۔

رب العالمین نے مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں فتح کرایا اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں کر دیا۔ [وللّٰہ الحمد والمنہ] ‏ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود غلبہ اور قدرت کے ان میں سے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا سب کو آزاد کر دیا۔ انہی لوگوں کو طلقاء کہتے ہیں یہ تقریباً دو ہزار تھے جو کفر پر پھر بھی باقی رہے اور ادھر ادھر ہو گئے۔

رحمتہ اللعالمین نے سب کو عام پناہ دے دی اور انہیں مکہ شریف میں آنے اور یہاں اپنے مکانوں میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ چارماہ تک وہ جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔ انہی میں صفوان بن اُمیہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ تھے پھر اللہ نے ان کی رہبری کی اور انہیں اسلام نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر اندازے کے کرنے میں اور ہر کام کے کرنے میں تعریفوں والا ہی ہے۔

صفحہ نمبر3401