Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Hajj 22:4

22:4
كتب عليه انه من تولاه فانه يضله ويهديه الى عذاب السعير ٤
كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُۥ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُۥ يُضِلُّهُۥ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ٤
كُتِبَ
عَلَيۡهِ
أَنَّهُۥ
مَن
تَوَلَّاهُ
فَأَنَّهُۥ
يُضِلُّهُۥ
وَيَهۡدِيهِ
إِلَىٰ
عَذَابِ
ٱلسَّعِيرِ
٤
del quale è scritto che travierà e guiderà verso il castigo della Fiamma 1 chi lo avrà preso per patrono.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 22:3 a 22:4
ازلی مردہ لوگ ٭٭

جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے، ” آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں “۔

صفحہ نمبر5552

یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20267:مرسل ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5553