Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-An'am 6:156

6:156
ان تقولوا انما انزل الكتاب على طايفتين من قبلنا وان كنا عن دراستهم لغافلين ١٥٦
أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَـٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَـٰفِلِينَ ١٥٦
أَن
تَقُولُوٓاْ
إِنَّمَآ
أُنزِلَ
ٱلۡكِتَٰبُ
عَلَىٰ
طَآئِفَتَيۡنِ
مِن
قَبۡلِنَا
وَإِن
كُنَّا
عَن
دِرَاسَتِهِمۡ
لَغَٰفِلِينَ
١٥٦
affinché non diciate: «È stata fatta scendere la Scrittura solo su due popoli 1 nostri predecessori e noi ne ignoravamo gli insegnamenti».
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 6:156 a 6:157
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭

فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن» [28-القصص:47] ‏، یعنی ” اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے “۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ ” اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کر دیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں “۔

صفحہ نمبر2816

اللہ فرماتا ہے ” اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آ چکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آ جائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ “۔

اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [6-الانعام:26] ‏ ” خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» [16-النحل:88] ‏ یعنی ” جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے “۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔

جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:32-31] ‏ یعنی ” نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا “۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔

صفحہ نمبر2817