Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-An'am 6:144

6:144
ومن الابل اثنين ومن البقر اثنين قل الذكرين حرم ام الانثيين اما اشتملت عليه ارحام الانثيين ام كنتم شهداء اذ وصاكم الله بهاذا فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا ليضل الناس بغير علم ان الله لا يهدي القوم الظالمين ١٤٤
وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٤٤
وَمِنَ
ٱلۡإِبِلِ
ٱثۡنَيۡنِ
وَمِنَ
ٱلۡبَقَرِ
ٱثۡنَيۡنِۗ
قُلۡ
ءَآلذَّكَرَيۡنِ
حَرَّمَ
أَمِ
ٱلۡأُنثَيَيۡنِ
أَمَّا
ٱشۡتَمَلَتۡ
عَلَيۡهِ
أَرۡحَامُ
ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ
أَمۡ
كُنتُمۡ
شُهَدَآءَ
إِذۡ
وَصَّىٰكُمُ
ٱللَّهُ
بِهَٰذَاۚ
فَمَنۡ
أَظۡلَمُ
مِمَّنِ
ٱفۡتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبٗا
لِّيُضِلَّ
ٱلنَّاسَ
بِغَيۡرِ
عِلۡمٍۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يَهۡدِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١٤٤
Due per i camelidi e due per i bovini. Di’: «Sono i due maschi che ha vietato o le due femmine, o quello che è contenuto nel ventre delle femmine? Eravate là quando Allah ve lo ha ordinato?». Chi è peggior ingiusto di chi, per ignoranza, inventa menzogne a proposito di Allah 1 , per traviare gli uomini? Allah non guida gli ingiusti.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 6:143 a 6:144
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے ٭٭

اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لیے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ -اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں “، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ” بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» [39-الزمر:6] ‏ ” اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں “۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔

سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4624] ‏

صفحہ نمبر2785