Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Anbiya Ayah 18

21:18
بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق ولكم الويل مما تصفون ١٨
بَلْ نَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَى ٱلْبَـٰطِلِ فَيَدْمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌۭ ۚ وَلَكُمُ ٱلْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ١٨
بَلۡﲂ
نَقۡذِفُﲃ
بِٱلۡحَقِّﲄ
عَلَىﲅ
ٱلۡبَٰطِلِﲆ
فَيَدۡمَغُهُۥﲇ
فَإِذَاﲈ
هُوَﲉ
زَاهِقٞۚﲊﲋ
وَلَكُمُﲌ
ٱلۡوَيۡلُﲍ
مِمَّاﲎ
تَصِفُونَﲏ
١٨ﲐ
E invece no, scagliamo la verità sulla menzogna, che le schiacci la testa, ed ecco che essa scompare. Siate maledetti per quello che affermate!
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 21:16 a 21:18

جو لوگ خدا کی دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں وہ گویا موجودہ دنیا کو ایک قسم کا خدائی کھلونا سمجھتے ہیں۔ جس کا وقتی تفریح کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ مگر موجودہ دنیا اپنی بے پناہ حکمت ومعنویت کے ساتھ اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے اس کے لحاظ سے یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خالق کوئی ایسا خدا ہو جس نے اس دنیا کو محض کھیل کے طورپر بنایا ہو۔

موجودہ دنیا میں انسان جیسی انوکھی مخلوق ہے جس کی فطرت میں حق وباطل کی تمیز پائی جاتی ہے۔ دنیا میں ایسی مخلوق کا ہونا جو ایک طریقہ کو حق اور دوسرے طریقہ کو باطل سمجھے اور پھر حق وباطل کے نام پر بار بار مقابلہ پیش آنا ظاہر کرتاہے کہ یہاں کوئی ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ آخری طورپر یہ بات کھل جائے کہ فی الواقع حق کیا تھا اور باطل کیا۔ اور پھر جس نے حق کا ساتھ دیا ہو اس کو کامیابی حاصل ہو اور جس نے حق کا ساتھ نہ دیا ہو وہ ناکام کردیا جائے۔ جس دنیا میں ایسا ’’پتھر‘‘ ہو جو ایک شخص کے ’’سر‘‘ کو توڑدے وہاں کیا ایسا حق نہ ہوگا جو باطل کو باطل ثابت کرسکے۔