Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Hud 11:119

11:119
الا من رحم ربك ولذالك خلقهم وتمت كلمة ربك لاملان جهنم من الجنة والناس اجمعين ١١٩
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ ١١٩
إِلَّا
مَن
رَّحِمَ
رَبُّكَۚ
وَلِذَٰلِكَ
خَلَقَهُمۡۗ
وَتَمَّتۡ
كَلِمَةُ
رَبِّكَ
لَأَمۡلَأَنَّ
جَهَنَّمَ
مِنَ
ٱلۡجِنَّةِ
وَٱلنَّاسِ
أَجۡمَعِينَ
١١٩
eccetto coloro ai quali il tuo Signore ha concesso la Sua misericordia. Per questo li ha creati. Così si realizza la Parola del tuo Signore: «In verità riempirò l’Inferno di uomini e di dèmoni assieme».
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 11:118 a 11:119

ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراطِ مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارے میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلے میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنااور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔

یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیوںکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلیٰ روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خداکی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔

خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہوگیاہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتاہے۔ حتی کہ اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعورِ حقیقت پکار اٹھے — خدایا، یہ تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے، ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔