Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 46

12:46
يوسف ايها الصديق افتنا في سبع بقرات سمان ياكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر واخر يابسات لعلي ارجع الى الناس لعلهم يعلمون ٤٦
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ٤٦
يُوسُفُﱗ
أَيُّهَاﱘ
ٱلصِّدِّيقُﱙ
أَفۡتِنَاﱚ
فِيﱛ
سَبۡعِﱜ
بَقَرَٰتٖﱝ
سِمَانٖﱞ
يَأۡكُلُهُنَّﱟ
سَبۡعٌﱠ
عِجَافٞﱡ
وَسَبۡعِﱢ
سُنۢبُلَٰتٍﱣ
خُضۡرٖﱤ
وَأُخَرَﱥ
يَابِسَٰتٖﱦ
لَّعَلِّيٓﱧ
أَرۡجِعُﱨ
إِلَىﱩ
ٱلنَّاسِﱪ
لَعَلَّهُمۡﱫ
يَعۡلَمُونَﱬ
٤٦ﱭ
[Disse]: «O Giuseppe, o veridico, spiegaci [il significato] di sette vacche grasse che sette magre divorano e di sette spighe verdi e di sette altre secche. Ché io possa tornare a quella gente ed essi possano sapere» 1 .
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 12:46 a 12:49

حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔

اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔

اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔