Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Qadr 97:5

97:5
سلام هي حتى مطلع الفجر ٥
سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ ٥
سَلَٰمٌ
هِيَ
حَتَّىٰ
مَطۡلَعِ
ٱلۡفَجۡرِ
٥
È pace, fino al levarsi dell’alba.   1 La Notte del destino di cui è questione in questa sura è quella in cui Allah (gloria a Lui l’Altissimo) rivelò al Profeta Muhammad (pace e benedizioni su di lui) il Sublime Corano. Il fatto avvenne in una delle notti dispari dell’ultima decade del mese di Ramadan (vedi anche nota alla sura XCVI). La consuetudine islamica, appoggiandosi su alcune tradizioni, ha individuato nella ventisettesima notte del mese la fatidica notte (inizia al tramonto del ventiseiesimo giorno di Ramadan) e ne ha fatto una ricorrenza liturgica di grande importanza. Durante questa notte nelle moschee e nelle case dei musulmani si veglia, si legge il Corano, si chiede perdono ad Allah e si invocano la Sua Grazia e la Sua Misericordia per tutto l’anno a venire. 2 Il pronome si riferisce al Sublime Corano? 3 Il termine che abbiamo tradotto con «Destino» è «quadr» che significa anche «potere, valore, merito, decisione». 4 «lo Spirito»: con questo termine Allah (gloria a Lui l’Altissimo) designa nel Corano l’angelo Gabriele (pace su di lui). 5 L’esegesi ha stabilito che il significato dell’espressione «min kulli ’amr» sia appunto quello che abbiamo tradotto con «per [fissare] ogni decreto», attribuendo alla particella «min» (da) il valore di «bi» (con, per).
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

ھی حتی ................ الفجر (5:97) ” یہ طلوع فجر تک ہے “۔ ہم اہل ایمان اس بات پر مامور ہیں کہ اس جشن نوبہاراں کو بھی نہ بھلائیں۔ یہ اچھی یادیں ہیں ، اور ان یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے ہمارے نبی نے ہمارے لئے بہت ہی سہل طریقے بتائے ہیں تاکہ ہماری روحیں اس سرچشمے سے مربوط ہیں۔ اور وہ عظیم کائناتی واقعہ انہیں یاد رہے جو اس رات میں وقوع پذیر ہوا۔ وہ یوں کہ حضور نے ہمیں تاکید فرمائی کہ ہر سال اس رات کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہو اور رمضان شریف کی آخری دس راتوں میں اسے تلاش کرو ، صحیح حدیث ہے :

تحروالیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان۔

” شب قدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو “۔ اور صحیحین ہی کی ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ نے فرمایا :

من قام لیلة القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔

” جس شخص نے شب قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور حسبتہ اللہ کی حالت میں کی اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے “۔

اسلام محض ظاہری رسومات اور اشکال کا نام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عبادت کے سلسلے میں فرمایا :

ایمنا واحتسابا ” یعنی ایمان اور اخلاص کے ساتھ “ تاکہ یہ قیام و عبادت اعلیٰ مقاصد کے لئے ہو جو اس رات میں متعین ہوئے اور احتساب کے طور پر یعنی خالص اللہ کے لئے ان دوشرائط سے انسانی دل میں ایسے حقائق جاگزیں ہوتے ہیں۔ جو انسان کو ان معانی کے ساتھ مربوط کردیتے ہیں جن کے لئے قرآن نازل ہوا۔

اسلامی نظام زندگی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایمان وعمل ، ضمیر کے اندر موجود معتقدات اور عملی عبادات کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے اور نظام عبادات اس طرح تجویز کرتا ہے جس کے ذریعہ انسان کے ضمیر و شعور میں وہ عقائد اچھی طرح مستحکم ہوجائیں اور زندہ مشکل میں موجود ہوں اور یہ نظریہ و عقائد محض افکار کی حد تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کا عملی اور زندہ اظہار بھی ہو۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اسلامی نظام زندگی اور نظام عبادت دراصل ایک بہترین نظام ہے جوان حقائق کو زندہ کرتا ہے اور انسانی ضمیر و شعور میں بھی اور عمل اور طرز عمل میں بھی زندہ اور متحرک کرتا ہے ، ان حقائق کا محض ذہنی ادراک ، بغیر عمل و عبادت کے ، ان عقائد ونظریات کو ثبات وقرار نہیں بخش سکتا۔ عبادات وعمل کے بغیر نہ فرد کی زندگی اور نہ سوسائٹی میں یہ حقائق زندہ اور متحرک ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیلة القدر کی یہ یاد اور اس میں ایمان اور خلوص کے ساتھ عبادت کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ اسلامی نظام زندگی کے منہاج اور طریقہ کار ایک خاص پہلو ہے۔