Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua
2:60
۞ واذ استسقى موسى لقومه فقلنا اضرب بعصاك الحجر فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا قد علم كل اناس مشربهم كلوا واشربوا من رزق الله ولا تعثوا في الارض مفسدين ٦٠
۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٦٠
۞ وَإِذِ
ٱسۡتَسۡقَىٰ
مُوسَىٰ
لِقَوۡمِهِۦ
فَقُلۡنَا
ٱضۡرِب
بِّعَصَاكَ
ٱلۡحَجَرَۖ
فَٱنفَجَرَتۡ
مِنۡهُ
ٱثۡنَتَا
عَشۡرَةَ
عَيۡنٗاۖ
قَدۡ
عَلِمَ
كُلُّ
أُنَاسٖ
مَّشۡرَبَهُمۡۖ
كُلُواْ
وَٱشۡرَبُواْ
مِن
رِّزۡقِ
ٱللَّهِ
وَلَا
تَعۡثَوۡاْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مُفۡسِدِينَ
٦٠
E quando Mosè chiese acqua per il suo popolo, dicemmo: «Colpisci la roccia con il tuo bastone». E, improvvisamente, sgorgarono dodici fonti, e ogni tribù 1 seppe dove doveva bere! «Mangiate e bevete il sostentamento di Allah e non spargete la corruzione sulla terra.»
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 2:58 a 2:61

پچھلی آسمانی کتابوں کو ماننے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات کيے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہيے تھا کہ خدا کے شکر گزار بندے بنتے۔ مگر انھوں نے بالکل برعکس ثبوت دیا۔ مثلا ایک بڑا شہر یہود کے قبضہ میں دے دیا گیا اور کہاگیا کہ اس میں داخل ہوتو فاتحانہ غرور اور شان و شوکت سے نہیں بلکہ عجز کے ساتھ اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے۔ مگر وہ اس کے بجائے تفریحی کلمات بولنے لگے۔ ان کو من وسلویٰ کی قدرتی غذائیں دی گئیں تاکہ وہ معاشی جدوجہد سے فارغ رہ کر احکام الٰہی کی بجاآوری میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہوں مگر انھوں نے چٹپٹے اور مسالہ دار کھانوں کا مطالبہ شروع کردیا۔ انھوں نے دنیا میں ضرورت پر قناعت نہ کرکے لذت کی تلاش کی۔ ان کی بے حسی اتنی بڑھی کہ اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں بھی ان کے دلوں کو پگھلانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئیں ۔ ان کی تنبیہ کے لیے جو اللہ کے بندے اُٹھے ان کا انھوں نے انکار کیا۔ ان میں یہ ڈھٹائی اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ نجات یافتہ گروہ ہیں ۔ مگر خدا کے یہاں نسلی اور گروہی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں ۔ ایک یہودی کو بھی اسی خدائی قانون سے جانچا جائے گا جس سے ایک کرسچن یا مسلمان، وغیرہ کو جانچا جائے گا۔ جنت اسی کے لیے ہے جو جنت والے عمل کرے، نہ کہ کسی نسل یا گروہ کے لیے۔

زمین کے اوپر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس، ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ حد سے نکل جانا ہے جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اپنی حد کے اندر عمل کرے۔